23 نومبر 2016 - 14:46
امریکہ کی خارجہ پالیسی پر ٹرمپ کی نکتہ چینی

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ واشنگٹن کو دنیا کے دیگر ملکوں کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے اپنے ایک طویل انٹرویو میں نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دنیا میں بقول ان کے نیشن بلڈنگ کا کام امریکی کی ذمہ داری نہیں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا اشارہ ایسے امریکی سیاستدانوں اور ماہرین کی طرف تھا جو دنیا بھر میں جمہوریت کے فروغ اور مختلف ملکوں میں حکومتی اور قومی ڈھانچے کے تیاری کی بات کرتے ہیں۔
نومنتخب امریکی صدر نے بحران شام کو حل کیے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شام کے بارے میں ان کی سوچ دوسروں سے مختلف ہے اور بقول ان کے جنون کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔
مسلہ فلسطین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امن کے خواہاں ہیں اوران کے یہودی داماد جیئرڈ کوشنر اس معاملے میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن قائم کرکے انہیں خوشی ہوگی۔
امریکہ کے نومنتخب صدر نے پیرس معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اس معاہدے کے حوالے سے کھلی پالیسیاں اختیار کریں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے عالمی معاہدے سے نکلنے یا اسے برقرار رکھنے پر غور کر رہے ہیں تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
انہوں نے اپنی انتخابی کمپین کے دوران زمین کی حدت یا اس کے گرم ہونے کے معاملے کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہو گئے تو پیرس معاہدے میں امریکہ کی شمولیت کے معاملے میں نظر ثانی کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ امریکہ میں روایتی ایندھن کے استعمال کو فروغ دیں گے اور زمین کی حدت میں کمی کے عالمی پروگرام کے لیے امریکہ کی مالی امداد بند کر دیں گے۔
کہا جارہا ہے کہ نئے امریکی صدر کی خارجہ پالیسی بدستور مبہم ہے اور سب اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ مغربی ایشیا اور خاص طور سے شام اور فلسطین سمیت دنیا کے مختلف علاقوں کے بارے میں کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں۔

.......

/169